نثار احمد کی زندگی جدوجہد، حوصلے اور ناقابلِ تسخیر عزم کی ایک متاثر کن داستان ہے۔ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوئے، جہاں بنیادی سہولیات بھی محدود تھیں۔ بچپن ہی میں زندگی نے انہیں کڑی آزمائشوں سے گزارا۔ صرف سات سال کی عمر میں وہ یتیم ہو گئے، اور بارہ برس کی عمر میں اپنی والدہ کے انتقال کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ والدہ کی وفات کے غم سے ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ خاندان کے بڑوں نے انہیں گاؤں کے تعلیمی ادارے سے نکال کر کراچی روانہ کر دیا۔ ایک ایسے بچے کے لیے جو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتا تھا اور جس نے کبھی اپنے گاؤں سے باہر قدم نہیں رکھا تھا، کراچی جیسے تیزرفتار شہر میں قدم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ مزدوری کر کے اپنی زندگی خود سنبھالیں۔
کراچی پہنچ کر نثار احمد نے سڑک کنارے قائم چھوٹے ہوٹلوں اور کیفے میں کام کرنا شروع کیا۔ جو ان کے لئے روزگار کا ذریعہ اور رہائش بھی بنے، کیونکہ ان کے پاس نہ گھر تھا اور نہ کوئی سرپرست۔ سخت حالات اور طویل اوقاتِ کار کے باوجود ان کے دل میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش زندہ رہی۔ روزانہ بارہ گھنٹے سخت مزدوری کے باوجود انہوں نےصبح کے اوقات میں اسکول میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔
کھیلوں، خصوصاً کومبیٹ اسپورٹس سے فطری لگاؤ نے انہیں مارشل آرٹس کی جانب راغب کیا۔ 2016 میں انہوں نے اقرا ر خان کی زیرِ نگرانی ٹائیگر مارشل آرٹس اکیڈمی میں باقاعدہ تربیت کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر انہوں نے ووشو سیکھا اور جلد ہی انہیں باکسنگ اور کِک باکسنگ سے بھی گہرا شغف پیدا ہوگیا
اپنے لڑکپن کے زمانے میں، روزانہ بارہ گھنٹے سے زائد سخت محنت طلب کام کے باوجود، انہوں نے غیر معمولی حوصلے اور عزم کے ساتھ مارشل آرٹس کی تربیت جاری رکھی۔ وہ پوری لگن، محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی مشق جاری رکھتے رہے اور اس تمام عرصے میں اپنی کفالت خود کرتے رہے، حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے اضافی جسمانی مشقت کے کام بھی اختیار کیے۔
‘نثار باکسر’
×
ان کی انتھک محنت رنگ لائی اور وہ قومی سطح پر کک باکسنگ چیمپئن شپس میں گولڈ میڈلز جیتنے لگے۔ اپنے جارحانہ اور پُرجوش فائٹنگ انداز کی وجہ سے وہ پاکستان کے مارشل آرٹس حلقوں میں “نثار باکسر” کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ اپنے پیشہ ورآنہ سفرمیں آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے موئے تھائی کی تربیت بھی حاصل کی اور اپنی مہارتوں میں مزید وسعت پیدا کی۔
2023 کے اختتام پر نثار احمد نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی ترقی کے لیے
AKS-DojoTM
میں شمولیت اختیار کی۔
یہاں انہوں نے نہ صرف جدید تربیتی اصول سیکھے بلکہ سخت ڈسپلن، ذہنی مضبوطی اور جسمانی فٹنس کے نئے معیار بھی اپنائے۔ اور اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا۔
سال 2024 ان کی زندگی کا یادگار ترین سال ثابت ہوا جب انہوں نے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقدہ ورلڈ موئے فیڈریشن پرو-امیچر موئے تھائی چیمپئن شپ میں موئے تھائی ورلڈ چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کیا۔
وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے فائٹر بنے۔ یہ کامیابی صرف ایک ٹائٹل نہیں بلکہ برسوں کی جدوجہد، قربانی اور مستقل مزاجی کا ثمر تھی، جس نے انہیں بے پناہ خوشی اور مزید آگے بڑھنے کا عزم عطا کیا۔
آج 200 سے زائد فائٹس کے تجربے کے ساتھ نثار احمد پاکستان کے نمایاں مارشل آرٹس فائٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے روس، قازقستان، تھائی لینڈ اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک میں کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان کا پرچم بلند کیا اور ملک کے لیے متعدد اعزازات جیتے۔ وہ مستقبل میں ان شاء اللہ مزید عالمی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔